Home / Question / السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا شوشل میڈیا پر غیر محرم عورتوں سے چیٹ کے ذریعہ گفتگو کر سکتے ہیں ؟؟؟ اس بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں جزاءکم اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا شوشل میڈیا پر غیر محرم عورتوں سے چیٹ کے ذریعہ گفتگو کر سکتے ہیں ؟؟؟ اس بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں جزاءکم اللہ

Q & ACategory: Akhlaque wa Aadabالسلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا شوشل میڈیا پر غیر محرم عورتوں سے چیٹ کے ذریعہ گفتگو کر سکتے ہیں ؟؟؟ اس بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں جزاءکم اللہ
Azizurrahman Faizi Staff asked 2 years ago
1 Answers
Azizurrahman Faizi Staff answered 2 years ago

غیر محرم مرد وزن کی بات چیت آمنے سامنے ہو, موبائل پیغامات (massaging) کے ذریعہ ہو, یا سوشل میڈیا چَیٹ ہو, سب کے لیے اللہ سبحانہ وتعالى نے ایک ہی اصول وضابطہ مقرر فرمایا ہے۔ اللہ ﷯ کافرمان ذی شان ہے: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ اور جب تم ان سے کسی چیز کے بارہ میں پوچھو, تو پردے کی اوٹ میں بات کرو۔ یہ تمہارے دلوں اور انکے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ [الأحزاب : 53] اس سے معلوم ہوتاہے کہ غیر محرم مرد اور عورت آپس میں کام کی بات کرسکتے ہیں۔ اور بات کرنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ عورت پردے کی اوٹ میں ہو۔ موبائل , یا میسنجرز پہ کال کرتے ہوئے, یا چیٹ کے دوران “پردہ کی اوٹ” تو موجود ہی ہوتی ہے۔ الا کہ کوئی ویڈیو کال کرکے اس “اوٹ” کو ختم کر دے۔ لیکن دوسرا اہم نقطہ جو اس آیت میں بیان ہوا ہے وہ ہے “کام کی بات” ! جسے عموما پس پشت پھینک دیا جاتا ہے, اور اسکا لحاظ رکھے بغیر بات چیت کی جاتی ہے۔اس آیت کریمہ میں حجاب کا ذکر کرنے سے پہلے اس اہم نقطہ کو بیان کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ غیر محرم مرد وزن کی آپس میں بات چیت صرف “ضروری اور ہم کام” سے متعلق ہونی چاہیے۔ محض “گپ شپ” لگانے کی اجازت شریعت میں انکے لیے نہیں ہے! خوب سمجھ لیں۔ اسی طرح دوسری مقام پہ اللہ ﷯ فرماتے ہیں: يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں جیسی نہیں ہو, اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو, تو پرکشش لہجہ میں گفتگو نہ کرو, وگرنہ جسکے دل میں مرض ہے وہ طمع لگا بیٹھے گا۔ اور معروف بات کہو۔ [الأحزاب : 32] اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالى نے غیر محرموں سے گفتگو کرنے کے لیے مزید دو ا صول بیان فرمائے ہیں: ۱۔ لہجہ پرکشش نہ ہو۔ ۲۔ معروف بات ہو۔ یعنی اگر کوئی عورت گفتگو کے دوران ایسے لہجہ میں بات کرے جس سے مردوں کے دل میں “عشق” کا مرض جنم لے سکتا ہو, تو وہ لہجہ شرعا حرام ہے۔ اسی طرح تحریری گفتگو میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھناضروری ہے کہ ایسے الفاظ سے اجتناب کیا جائےجو صنفی کشش کا باعث بنتے ہوں۔ اور جو گفتگو مرد وعورت کر رہے ہیں وہ معروف یعنی اچھائی اور بھلائی اورنیکی کی گفتگو ہو جسے شریعت اسلامیہ منع نہیں کرتی۔ درج بالا قواعد وضوابط کو ملحوظ رکھ کر غیر محرم مرد و عورت آپس میں بات چیت کر سکتے ہیں ۔ اس امت کی سب سے پاکیزہ خواتین یعنی امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ کی ازواج مطہرات بھی غیر محرم مردوں سے انہی اصولوں کو مد نظر رکھ کر گفتگو کرتیں اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی براہ راست شاگردات یعنی صحابیات بھی انہی ضابطوں کی پابند رہ کر بات چیت کیا کرتی تھیں۔ سو آج بھی اگر کوئی ان ضابطوں کی پابندی کرے تو انکی گفتگو میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی بات ایسی ہو جو کہ مرد کو اس عورت سے یا عورت کو اس مرد سے “خود” کرنا ضروری ہو, گفتگو کا انداز پرکشش نہ ہو, معروف بات ہو, اور حجاب کے احکامات ملحوظ خاطر ہوں, تو کوئی حرج نہیں ہے۔ شادی سے قبل منگیتر بھی “نامحرم” ہی شمار ہوتے ہیں۔ لہذا ان سے بھی گفتگو انہی ضوابط کی پابند ہے۔ یہاں ایک ہم بات سمجھنا بہت ضروری ہے , خصوصا خواتین کے لیے کہ * انکی سوشل میڈیا آئی ڈی انکے ولی امر (محرم مرد رشتہ دار جو عورت کا سرپرست ہے) کے علم میں ہونی چاہیے۔ اور اگر خواتین سوشل میڈیا مثلا فیس بک , ٹویٹر, واٹس ایپ , ٹیلی گرام وغیرہ کا استعمال کرتی ہیں تو انہیں بہت زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔اور درج ذیل غلطیوں سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا: 1- لڑکوں کو ایڈ کرنا: کسی بھی ایسی آئی ڈی جو مردوں یا لڑکوں کے ناموں سے ہوں ان کو ایڈ نہ کریں اور اگر اپ کو لڑکی کے نام سے فرینڈ ریکویسٹ آئی ہے تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ واقعی کسی بہن کی آئی ڈی ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ لڑکی کے نام سے فیک آئی ڈی بناکر لڑکے آپ کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج رہے ہیں ۔ جن پر لڑکیوں کی تصاویر لگی ہوتی ہیں تاکہ ایسے لڑکیوں کی پروفائل میں گھسا جا سکے۔ الغرض آپ صرف اور صرف لڑکیوں کو ہی اپنی فرینڈ لسٹ میں ایڈ کریں اور وہ بھی ایسی لڑکیاں جنہیں آپ جانتی ہوں کہ واقعی یہ لڑکیاں ہی ہیں اور پابند شریعت بھی! اگر آپکو دینی معلومات درکار ہیں, تو آپ فیس بک پر ایسے پیجز کو لائک کر لیں جو اسلامی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان سے ہی آپکی علمی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ 2- لڑکوں سے چَیٹ: لڑکوں سے چیٹ کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں, جیسا کہ اوپر دلائل سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ “گپ شپ “لگانے یا پھر محض “سلام دعاء, حال احوال” کی غرض سے نامحرموں سے چَیٹ یا گفتگو کرنے کی شریعت میں ہرگز اجازت نہیں ہے۔ ہاں بوقت ضرورت بقدر ضرورت جتنی شریعت نے اجازت دی ہے اسکے مطابق کوئی بات کی جاسکتی ہے, لیکن یہ ذہن میں رہے کہ یہ اجازت محض رخصت ہے, لہذا اسکا کم ازکم استعمال کریں۔ 3- ضرورت اور بلا وجہ کی گفتگو کے باریک فرق کو سمجھیں: اگر آپ کو کسی عالم دین سے معلومات درکار ہیں تو تین سے چار سطروں میں اپنا سوال لکھ کر سینڈ کریں، ورنہ گفتگو طول پکڑے گی اور کہیں جا کر بھی نہیں رکے گی جس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔ خواتین عموما مرد کو دیندار, متقی, عالم دین, یا مجاہد سمجھ کر “گپ شپ” کرنا شروع کر دیتی ہیں جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ اس سے اجتناب کریں۔ ٹو دی پوائنٹ یعنی جامع ومانع بات کریں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ جب بھی کسی غیر محرم مرد سے چیٹ کریں تو اپنے کسی محرم کی موجودگی میں کریں, فتنہ سے محفوظ رہنے کا یہ بہت مؤثر ذریعہ ہے۔ 4- دوسروں کی پوسٹوں پہ کمنٹ کرنا: کسی بھی دینی یا فلاحی تنظیم یا جماعت کے پیج پہ موجود پوسٹوں پر اپنی آئی ڈی سے کمنٹ نہ کریں, وگرنہ اسکے نتیجہ میں آپکی آئی ڈی ہزاروں بلکہ لاکھوں مردوں تک پہنچ جائے گی اور یہ فتنہ کا سبب بن جائے گی! 5- پروفائل پکچر: اپنی پروفائل پہ اپنی تصویر نہ لگائیں , خواہ نقاب والی ہی ہو۔ کچھ لڑکیاں اپنے ہاتھوں, پاؤں, لباس وغیرہ کی تصاویر کو اپنی پروفائل پہ لگا دیتی ہیں جبکہ شریعت نے ان سب کو چھپانے کا حکم دیا ہے۔ 6- پوسٹ کرنے میں احتیاط برتیں: اپنے دکھ اور غم مثلا : میں پریشان ہوں ڈپریشن میں ہوں میں بہت مصیبت میں ہوں وغیرہ انٹر نیٹ پہ اجنبیوں سے ہر گز نہ شئیر کریں, اور نہ ہی اپنی جاننے والی لڑکیوں سے۔ یہ وہ غلطی ہے جو ہر لڑکی انٹر نیٹ پہ کرتی ہے اور بعد ازاں نقصان اٹھاتی ہے۔ اسی طرح اپنے رویے اور پسند ناپسند ، رنگ کیسا پسند ہے ، کھانے میں کیا پسند ہے ، جوتے کون سے پسند ہیں ، یہ معلومات اگر آپ انٹر نیٹ پہ ڈالیں گی تو وہ کسی نہ کسی تک تو پہنچیں گی جس سے نقصان کا اندیشہ ہے

مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-swal-735.html